اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سرزمین پر سن 2004 سے شروع ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کے بارے میں کہ جو گیارہ سال گذرنے کے باوجود بھی جاری ہیں، امریکی فوج نے ہمیشہ اس بات کا دعوی کیا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں دہشتگرد عناصر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم سرکاری اور غیر سرکاری رپورٹوں اور عینی شاہدین کے مطابق ان حملوں میں عام طور پر خواتین اور بچے ہی نشانہ بنے ہیں۔ امریکہ ایسے عالم میں اپنے ڈرون طیاروں کے زریعے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بہانے پاکستان کے شمال مغربی علاقوں کو مسلسل نشانہ بنائے ہوئے ہے کہ جب پاکستانی فوج تقریبا دس مہینوں سے ان علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف وسیع پیمانے پر زمینی اور فضائی آپریشن میں مصروف ہے۔ پاکستان کے اعلی حکام نے امریکہ کی جانب سے پاکستانی حدود میں ڈرون حملوں پر بارہا تنقید کی ہے اور امریکہ کے اس اقدام کو پاکستانی سرزمین میں مداخلت قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے بھی پاکستان کے مختلف علاقوں پر امریکی ڈرون حملوں پر کڑی تنقید کی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ کے موجودہ صدر باراک اوباما کے دور اقتدار میں ان حملوں میں بے انتہا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
.......
/169